pti

متعدد بڑے سیاستدانوں کا (ن) لیگ کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت کا امکان مگر پی ٹی آئی کے اندر کیا چل رہا ہے؟ بڑی خبر آگئی

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستانی سیاسی تاریخ کی ایک روایت کہہ لیں یا بد قسمتی کہ جب بھی عام انتخابات قریب آتے ہیں ایک تاثر قائم کر دیا جاتا ہے کہ فلاں جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے اور عوام اس تاثر کو بہت اہمیت دیتے ہیں ۔ آج تحریک انصاف کے حوالےسے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر جماعت ہے

یہی وجہ ہے کہ مختلف جماعتوں سے پرواز کرنے والے پنچھی تحریک انصاف کی منڈیر پر بیٹھ رہے ہیں ۔ اس موقع پر یہ چیز بھی واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ عمران خان کی کرپشن اور نظام کے خلاف موقف میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ کپتان نے 22 سال پہلے انصاف کا نعرہ لگایا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ وہ کرپٹ جیتنے والے گھوڑے اپنی جماعت میں نہیں لیں گے لیکن پاکستان میں نظریہ کی سیاست دم توڑ گئی ، دفن ہوگئی، اب تو سیاست موقع پرستی اور ذاتی مفاد کا نام ہے یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے ہاں بھی نظریاتی سیاست مستحسن نہیں رہی اور انہوں نے بھی روایتی سیاسی کلچر کو قبول کرتے ہوئے وننگ ہارس پارٹی میں شامل کرنے شروع کر دیئے ہیں جس کے بعد تحریک انصاف نظریاتی کی بجائے کنگز پارٹی بن رہی ہے اور اس طرح کی جماعت تب تک قائم رہتی ہے جب تک اس کے اوپر چھتری قائم رہے اس کی حالیہ مثال مسلم لیگ ق کی ہے جس کو کنگز پارٹی سے کنگال پارٹی بننے میں دیر نہیں لگی ۔ کپتان دوسری جماعتوں سے آنے والے لوگوں کو جستیزی سے جماعت میں شامل کر رہے ہیں اس کا احساس انہیں تب ہو گا جن ٹکٹ دینے کا وقت آئے گا ، وہ کس کس کو پارٹی ٹکٹ دیں گے اگر انہوں نے ان تمام لوگوں کو دے دیئے

جو دوسری جماعتوں سے آئے ہیں تو ان کے اپنے کارکنان ناراض ہو جائیں گے جن کا انہیں بہر حال نقصان ہو گا اور ویسے بھی جو پنچھی آج ان کی منڈ یر پر بیٹھے ہیں وہ کل اپنے مفادات کے لیے کسی اور جگہ بسیرا کر لیں گے۔ عام انتخابات میں پنجاب میں اصل مقابلہ تو مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان ہی ہونا ہے اور اس وقت مسلم لیگ ن کے حالات کچھ زیادہ سازگار نہیں ، نواز شریف کی اداروں کے خلاف تلخی میں اضافہ ہو رہاہے جبکہ دوسری جانب شہباز شریف معاملات کو اعتدال میں رکھنے کے لیے اداروں کی تعریف کر رہے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے جو پانچ سال گزرے ہیں اس میں وفاقی سطح پر پارٹی کی کارکردگی کو پنجاب کی نسبت مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پاناما کیس سے مسلم لیگ ن کو اور نواز شریف و بالخصوص اخلاقی طور پر نقصان ہوا ہے شریف فیملی کے حوالے سے عوام میں یقین کی حد تک یہ تاثر قائم ہوگیا ہے کہ یہ کرپٹ لوگ ہیں ۔ جیسے جیسے نواز شریف کے کیس کا فیصلہ اور حکومت کے جانے کے دن نزدیک آرہے ہیں ۔ ویسے مسلم لیگ ن کے اندر اختلافات نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ سید ظفر علی شاہ تو کافی عرصے سے پارٹی کی پالیسیوں کے خلاف بیان دے رہے تھے لیکن

دیگر لوگ حالات کے جبر کی وجہ سے اس کا اظہار نہیں کر پار رہے تھے۔ اب وقت آیا تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنا نقطہ نظر بیان کر نا شروع کر دیا ہے اور سیاسی حالات بتا رہے ہیں کہ ابھی مزید لوگ مسلم لیگ ن کو چھوڑ جائیں گے اور اس کا سارا الزام اسٹیبلشمنٹ کے سر نہیں دیا جاسکتا، مسلم لیگ ن کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے کہ قیادت کی بدعنوانی اور تضاد بیانی نے پارٹی کا سیاسی بیڑا غرق کیا۔ اس وقت پارٹی صدر کی حیثیت سے شہباز شریف کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ عام انتخابات تک مسلم لیگ ن کو کیسے متحد رکھتے ہیں ۔