جب بھی میں بیرون ملک جاتا ہوں تو لوگ مجھ سے ایک ہی بات کہتے ہیں ۔۔۔ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دینے والی بات کہہ ڈالی

راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہےکہ ملک میں امن و استحکام غازیوں اور شہدا کی مرہون منت ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ گزرا ہے کہ،فاٹا میں امن آیا اور کچھ لوگوں نے ایک اور تحریک شروع کردی،کچھ لوگ باہر اور اندر سے پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں،ان کو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں

کہ آپ کچھ بھی کرلیں،جب تک فوج اور اس کے پیچھے یہ قوم کھڑی ہے آپ پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل ہیڈ کوارٹرز میں تقسیم اعزازات کی تقریب ہوئی جس میں عسکری حکام ، غازیوں اور شہداء کے لواحقین نے شرکت کی جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مہمان خصوصی تھے۔آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے تقریب سےخطاب میں کہا کہ کوئی بھی میڈل شہداء کی قربانی کا نعم البدل نہیں ہوسکتا اور شہداء کے لواحقین کے غم کو کم نہیں کرسکتا، یہ وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے آج ہم امن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان میں دن بہ دن امن آرہا ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ ’’جب بھی میں بیرون ملک جاتا ہوں لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ دہشت گردوں نے پوری دنیا میں تباہی مچائی ہوئی ہے اور ان کے خلاف اگر کوئی کامیابی کی مثال ہے تو وہ پاکستان ہے، جس نے اپنے علاقوں سے دہشت گردوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیا ہے، پاکستان کے پاس ایسی کیا خصوصیت ہے جو دیگر ملکوں کے پاس نہیں ہے؟‘‘آرمی چیف نے کہا کہ ’’میں ان لوگوں کو جواب دیتا ہوں کہ جب تک پاکستان میں ایسی مائیں، بہنیں، بیویاں، بیٹیاں پیدا ہوتی رہیں گی جو اپنے بیٹوں، بھائیوں، شوہروں اور والد کو مادر وطن پر نچھاور کرنے کے لیے بھیجتی رہیں گی اس وقت تک پاکستان کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ‘‘۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میں ان ماؤں کو سلام پیش کرتا ہوں جن کی قربانی کی وجہ سے آج ہم اس مقام پر پہنچے ہیں۔

آرمی چیف نے کہا کہ شہداء ہی ہمارے حقیقی ہیروز ہیں جنہوں نے ملک کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگادی، وہ قومیں جو اپنے ہیروز کو بھلا دیتی ہیں وہ مٹ جایا کرتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم دنیاوی طور پر پوری کوشش کریں گے کہ شہداء کے لواحقین کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ آئے تاہم بطور قوم ہمیں ہمیشہ ان کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان آہستہ آہستہ ترقی اور امن کی جانب بڑھ رہا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ملک میں مکمل آجائے تو ہم شہداء کی قربانیوں کو بھول بیٹھیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ ’’ہماری قوم کی تاریخ یاد رکھنے کی صلاحیت بہت کم ہے، ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا ہے فاٹا میں امن آیا ہے اور لوگوں نے ایک نئی تحریک شروع کردی ہے‘‘۔پاک فوج کے سربراہ نے دشمنوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کچھ لوگ پاکستان میں جو باہر سے اور اندر سے پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں، انہیں ہم یہ بتانا چاہتے ہیں آپ چاہے جو بھی کرلیں جب تک پاک فوج کے پیچھے قوم کھڑی ہے پاکستان کو کچھ نہیں ہوسکتا‘‘۔آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اب مشکل حالات سے باہر نکل آیا ہے اور پاکستان کے اچھے دن آنے والے ہیں۔انہوں نے تقریب میں موجود افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان مزید ترقی کی جانب بڑھے گا تو میں تو اس عہدے پر نہیں رہوں گا لیکن میں آپ لوگوں سے امید کرتا ہوں کہ آپ کبھی شہداء اور ان کے ورثاء کو نہیں بھلائیں گے۔قبل ازیں آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب میں شہداء کے لواحقین اور غازیوں کو اعزازات سے نوازا گیا جن میں 32 افسران کوستارہ امتیاز ملٹری سے نوازا گیا، 2 افسران کو تمغہ جرأت اور 33 افسران اور جوانوں کو تمغہ بسالت دیا گیا جب کہ 4 افسروں اور جوانوں کو اقوام متحدہ کا خصوصی میڈل دیا گیا۔