جج صاحب آپ نے ہمیں یاد کیا تھا ۔۔؟ ہم نے یاد نہیں کیا بلکہ ۔۔۔ خواجہ سعد رفیق اور چیف جسٹس ثاقب نثار میں ہونے والی بات چیت کا احوال سامنے آ گیا

لاہور:چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا ہےکہ پہلی بار قانون کی بالادستی نظرآرہی ہے جسسےلوگوںکوتکلیف ہورہی ہے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سانحہ ماڈل ٹاؤن از خود نوٹس کیس کی سماعت کےدوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ماورائے قانون کوئی اقدام نہیں کریں گے،میرے ججز کی عزت نہ کرنے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں۔

دوسری جانب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہی ریلوے خسارہ کیس کی سماعت ہوئی۔وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق عدالت میں پیش ہوئے اور اس دوران انہوں نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ چیف جسٹس صاحب آپ نے مجھے یاد کیا تھا۔اس پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے یاد نہیں کیا تھا، سمن کیا تھا، وہ وقت چلا گیا جب عدالتوں کا احترام نہیں کیا جاتا تھا۔چیف جسٹس پاکستان نے مزید ریمارکس دیئے کہ پہلی بار قانون کی بالادستی نظرآرہی ہے جس سے لوگوں کوتکلیف ہورہی ہے۔دوسری طرف سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سانحہ ماڈل ٹاؤن از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے لاہورہائیکورٹ میں سانحے سے متعلق زیر التوا تمام مقدمات کو دو ہفتوں میں نمٹانے کا حکم جاری کردیا۔سپریم کورٹ رجسٹری میں سانحہ ماڈل از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔سماعت کے دوران عدالت نے انسداد دہشتگردی عدالت کے جج اعجاز اعوان کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا حکم جاری کیا۔عدالت نے انسداد دہشتگردی عدالت کے جج اعجاز اعوان کی ہفتہ وار چھٹی کے علاوہ دیگر چھٹیاں بھی منسوخ کردیں۔

چیف جسٹس نے حکم جاری کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا تمام مقدمات کو دو ہفتوں میں نمٹایا جائے۔عدالت نے جسٹس علی باقر نجفی کی مکمل رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کا حکم بھی جاری کیا۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کو آج شام 4 بجے تک رپورٹ سپریم کورٹمیں جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماورائے قانون کوئی اقدام نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے ججز کی عزت نہ کرنے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں ہوسکتا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا میاں نواز شریف سمیت سیاسی شخصیات کی طلبی سے متعلق کوئی حکم دہشتگردی عدالت میں موجود ہے۔بعد ازاں چیف جسٹس کے احکامات کے پیش نظر پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دونوں مقدمات اور استغاثہ کا ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا۔خیال رہےکہ 8 اپریل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا نوٹس لیا تھا۔اس سے قبل سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والی خاتون کی بیٹی بسمہ نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ملاقات کی۔

متاثرہ لڑکی نے چیف جسٹس کو بتایا کہ چار سال گزر گئے ابھی تک انصاف نہیں ملا۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف ملے گا، میرے ہوتے ہوئے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔واضح رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں تحریک منہاج القران کے مرکزی سیکریٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔آپریشن کے دوران پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت کے دوران ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھےجبکہ 90 کے قریب زخمی بھی ہوئے تھے۔بعدازاں حکومت نے اس واقعے کی انکوائری کروائی، تاہم رپورٹ کو منظرعام پر نہیں لایا گیا، جس کا مطالبہ سانحے کے متاثرین کے ورثاء کی جانب سے متعدد مرتبہ کیا گیا۔گزشتہ برس اگست میں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ منظر عام پر لانے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ان افراد کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 2014 میں ہونے والے ماڈل ٹاؤن سانحے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے پنجاب حکومت کے حوالے کردی تھی، جسے منظرعام پر نہیں لایا گیا۔مذکورہ درخواست پر سماعت کے بعد گزشتہ سال 21 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو منظرعام پر لانے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء اور زخمیوں کا حق ہے کہ انھیں اصل ذمہ داروں کا پتہ ہونا چاہیے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ عوامی دستاویز ہے، جوڈیشل انکوائری عوام کے مفاد میں کی جاتی ہے اور اسے عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔