نواز شریف کی تاحیات نااہلی پر مارگلہ کی پہاڑیوں میں زلزلہ پیدا کیوں نہیں ہوا ؟ سہیل وڑائچ کی ایک شاندار تحریر ملاحظہ کیجیے

لاہور:حضرت اقبال بڑے تھے اس لئے پہاڑ اور گلہری لکھی، میں چھوٹا ہوں اس لئے پہاڑ اور چیونٹی لکھ رہا ہوں۔ میرا پہاڑ بڑا اور میری چیونٹی چھوٹی ہے، میرا پہاڑ بہادر اور میری چیونٹی بزدل ہے، میرا پہاڑ 70سال سے ڈٹا ہوا ہے چیونٹی لاکھ صدائیں دیتی ہےنامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں

مگر پہاڑ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ پہلے ہمالیہ اور دیگر پہاڑ رویا کرتے تھے اب تو ہنستے بھی نہیں بس ساکت رہ کر اپنا کام کئے جاتے ہیں۔ بھٹو سوچتے تھے انہیں پھانسی دی گئی تو ہمالیہ روئے گا مگر ہمالیہ پر پھانسی کا کوئی اثر نہ ہوا۔ نواز شریف سوچتے ہوں گے کہ انہیں نااہل قرار دیا گیا یا وزارتِ عظمیٰ سے ہٹایا گیا تو مارگلہ کی پہاڑیوں میں زلزلہ آئے گا کچھ بھی نہ ہوا، مارگلہ کی پہاڑیوں پر اب بھی چین کا بسیرا ہے۔ نواز شریف کو جیل بھیج دیا جائے گا تب بھی مارگلہ کی پہاڑیوں پر بہار کے پھول لہلہاتے رہیں گے اور خوش بخت اور خوش چہرہ اپنی زیبائش برقرار رکھنے کے لئے مارگلہ پر واک کرتے رہیں گے کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ پہاڑ نہیں روتے، نہ ہمالیہ بدلا نہ مارگلہ کو کوئی فرق پڑے گا۔ اقبال کی گلہری بھی پہاڑ سے سے ہم کلام ہوئی تھی میری چیونٹی بھی پہاڑ کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرتی ہے، آنسو بہاتی ہے، آہ و زاری کرتی ہے، زلزلوں سے ڈراتی ہے، اچھے کام کرنے پر ہن برسنے کی نوید سناتی ہے مگر زمین جنبد نہ جنبد گل محمد کے مصداق پہاڑ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔نواز شریف کی سیاست پر تاحیات پابندی لگنی ہی تھی اب نئی سیاست کا راستہ ہموار ہو گا، پہاڑ پھر سے اپنی مرضی کرے گا چیونٹی فریاد کرتی رہے گی مگر مجال ہے پہاڑ سن لے۔

پہاڑجتنا بڑا ہے اتنی ہی بڑی غلطیاں کرے گا مگر ڈٹا رہے گا اور یوں چیونٹی کا راستہ لمبا سے لمبا ہوتا جائے گا۔ میری چیونٹی بڑی محنتی ہے 70سال سے دانہ دنکا اکٹھا کرتی ہے اور سوچتی ہے کہ اب کوئی مشکل وقت نہیں آئے گا اور اس کی زندگی آسانی سے رواں دواں رہے گی۔ چیونٹی کو پہاڑ سے محبت بھی ہے کیونکہ وہ چیونٹی کا محافظ جو ہے۔ چیونٹی جہاں پہاڑ کی سلامتی کی دعائیں کرتی ہے وہاں یہ بھی سوچتی ہے کہ کاش پہاڑ میں کچھ اصلاح ہو جائے آئے دن پتھر نہ لڑھکائے، راستے بند نہ کرے، پہاڑ پر لگے سایہ دار درختوں کو نہ اکھاڑے۔ کئی بار تو پھل دار درخت بھی پہاڑ کے غصے کی زد میں آ جاتے ہیں پہاڑ مگر ہٹ کا پکا ہے اسے بھی علم ہے کہ وہ کیوں ایسا کرتا ہے۔ شاید اسے یقین ہے کہ ایسا کرنا پہاڑ اور چیونٹی دونوں کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پہاڑ پار کے لوگ نہ صرف پہاڑ میں رستے بنا لیں گے بلکہ چیونٹیوں کا بھی تیا پانچہ کر دیں گے۔امرتا پریتم نے ہندو مسلم فسادات پر لکھتے ہوئے کہا تھا کہ چناب لہو سے بھر گیا، پنجاب کی بیٹی کی آہیں پھر بھی نہ سنی گئیں شاید یہاں کے دریا بھی پہاڑوں جیسے ہیں جو تاریخ کی آہٹ سنے بغیر بہتے چلے جاتے ہیں۔

ان کا رنگ، لہو سے سرخ ہو جائے یا پھر برف سے سفید اور سبزے سے سبز ہو جائے یا پھر بھوری مٹی سے بھورا ہو جائے دریائوں کو فرق نہیں پڑتا۔ دریائے سندھ نے موہنجو ڈارو کو پھلتے پھولتے، پروہت کو حکومت چلاتے اور لوگوں کو سمبارا کے رقص سے لطف اندوز ہوتے بھی دیکھا، راجہ داہر پر محمد بن قاسم کا حملہ بھی دیکھا اور بھٹو کی پھانسی بھی دیکھی مگر دریائے سندھ نہ بولا نہ کناروں سے باہر نکلا۔ نواز شریف جیل جائے گا تو راوی میں کوئی طوفان نہیں آئے گا بس یونہی چپ چاپ نالے کی طرح بہتا رہے گا۔ چیونٹی یونہی سوال اٹھاتی رہے گی حضرت اقبال کی گلہری بھی ظلم پر فریاد کرتی رہے گی مگر کچھ نہیں بدلے گا۔ اگر ہمارا مارگلہ اور ہمارا ہمالیہ نہیں روتے تو یورپ کے کوہ الیپس اور دریائے سین بھی نہیں روتے؟ قرطبہ کی وادیٔ الکبیر لاشوں سے اٹتی ہے تو پھر یہ کارزار ہمیشہ کے لئے ختم ہوتا ہے۔دریائے سین پر عثمانی اور یورپ برسر پیکار ہوتے ہیں ویانا میں سین کے کنارے لڑائی ہوتی ہے مگر ترکی کے سلطان کی ناگہانی وفات نے دریائے سین کو بھی بدل دیا یورپ اور ایشیا کا خون بہنا ہمیشہ کے لئے بند ہوا۔ نہ اب دریائے سین لہو رنگ ہے اور نہ اس میں کوئی طوفان آتا ہے ہاں اس نے ماضی سے سبق سیکھا ہے امن اور سلامتی کا راستہ اپنایا ہے۔

دریائے سین، مارگلہ کے پہاڑ کی طرح بول نہیں سکتا مگر مارگلہ اور ہمالیہ کے برعکس دریائے سین نے سبق سیکھا۔ چناب اور راوی اب بھی سرخ ہوتے ہیں مگر دریائے سین اب لہو رنگ نہیں ہوتا بلکہ برف کی طرح ٹھنڈا اور سفید ہی رہتا ہے۔ شاعر، سیاستدان اور فنکار ، پہاڑوں سے مختلف ہوتے ہیں بہت ہی مختلف۔ انہیں تو پودے، پرندے، پہاڑ اور دریا سب باتیں کرتے، روتے ہنستے اور کراہتے سنائی اور دکھائی دیتے ہیں اسی لئے بھٹو کا ہمالیہ روتا تھا، اسی لئے امرتا پریتم کا چناب سرخ ہوتا ہے اور بالکل ایسے ہی نواز شریف کا مارگلہ پہاڑ بھی اتنا سخت نہیں ہو سکتا کہ سب کچھ ہی اڑا کر رکھ دے۔ مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ حقائق تلخ ہوتے ہیں شاعر، سیاستدان اور فنکار جو خواب دیکھتے ہیںوہ آج کے ظالم زمانے کے نہیں، اگلے سہانے زمانوں کے ہوتے ہیں اسی لئے وہ ہارتے ہیں شکست کھاتے ہیں کیونکہ ان کے تجزیے رومان پرور ہوتے ہیں۔ ان کے پہاڑ بھی دل رکھتے ہیں جبکہ حقیقت میں پہاڑوں کا دل نہیں ہوتا صرف دھاڑ ہوتی ہے۔ حضرت اقبال کی گلہری اور اس ناچیز کی چیونٹی، کمزور سہی، پہاڑ کے سامنے اس کی ایک نہیں چلتی، پہاڑ جب چاہے اسے روند ڈالے لیکن چیونٹی اور پہاڑ کا رشتہ گہرا ہے اگر پہاڑ اس رشتے کو نہ سمجھا تو یہی چیونٹیاں اس پر اپنا اعتماد کھو دیں

گی کچھ روند کے ماری جائیں گی اور کچھ سرنگیں بنا کر پہاڑ کو ہی کمزور کر ڈالیں گی۔ یہ چیونٹیاں، یہ گلہریاں، یہ عوام، یہ کیڑے اور مکوڑے عام طور پر سوئے رہتے ہیں انہیں بس اپنے غم روزگار سے سروکار رہتا ہے۔ روٹی روزی تک ہی ان کی زندگی محدود ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ چیونٹیوں کا جلوس دیو پر حملہ آور ہو جائے تو اسے چیر پھاڑ دیتا ہے۔ یہی کیڑا یہی مچھر نمرود کی ناک میں گھس جائے تو اسے بے بس کر دیتا ہے، ابابیل اکٹھے ہو جائیں تو ابرہہ کے لشکر کو کنکریوں سے تباہ کر دیتے ہیں یہی گلہریاں جو عام زندگی میں چھپتی پھرتی ہیں اپنے دفاع میں کھڑی ہو جائیں تو نیولے اور سانپ تک کو آگے لگا لیتی ہیں۔ دعا یہی کرنی چاہئے کہ چیونٹی اور پہاڑ کا ساتھ محبت اور تحفظ کا ہو ظلم کا نہ ہو۔ محبت رہے گی تو دونوں چلتے رہیں گے مقابلہ ہوا تو چیونٹیوں کا بیڑہ تو غرق ہو گا مگر بالآخر پہاڑ بھی کھوکھلا ہو جائے گا۔ اے پہاڑ، پہاڑی غلطیاں نہ کرو۔ چیونٹی کی بھی سنو۔