جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے بعد حکومت پنجاب کا اعلیٰ افسر جب وہاں پہنچا تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ بریکنگ نیوز آ گئی

لاہور:نواز شریف کے متعد کیسز میں شامل تحقیقات رہنے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کے پرسنل سٹاف آفیسر اعلیٰ عدلیہ کے جج کے گھر پہنچ گئے لیکن سپریم کورٹ انتظامیہ نے ملاقات کرانے سے انکار کردیا۔سپریم کورٹ کی جانب

سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ واقعہ کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کے پرسنل سٹاف آفیسر جسٹس اعجازالاحسن کے گھرپہنچے اور ملاقات کی درخواست کی لیکن سپریم کورٹ انتظامیہ نے پی ایس اوکی جسٹس اعجازالاحسن سے ملاقات کرانے سے انکار کردیا۔ترجمان کے مطابق ملاقات کا مقصد آج کے واقعہ پر بات چیت کرنا بتایا گیا تھا،انکار کے بعد پی ایس او واپس چلے گئے۔یاد رہے دن دیہاڑے دہشتگردی نے جہاں عوام میں خوف و حراس پھیلا دیا ہے وہاں سکیورٹی اداروں پر بھی سوال کھڑے کر دیے ہیں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ واقعہ کیخلاف پاکستان بار کونسل نے کل ملک بھر کی عدالتوں میں ہڑتال کا اعلان کردیاجبکہ صدر سپریم کورٹ بار نے تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات اور آج صبح پاناما ریفرنس کی سماعت کرنیوالے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کی گئی ،اس پر پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کامران مرتضیٰ نے نجی ٹی وی چینل سما نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ججز کو ڈرانے اور دھمکانے کے واقعات بالکل برداشت نہیں کریں گے اور اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری حکومتپر عائد ہو گی۔

ان کا کہناتھا کہ کل ملک بھر کی عدالتوں میں علامتی ہڑتال کی جائے گی وکلا اپنی بازوﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر پیش ہونگے۔صدر سپریم کورٹ بار پیر کلیم خورشید نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے،ان کا کہناتھا کہ ججز کو ڈرانے کے واقعات برداشت نہیں کریں گئے،مستقبل کا لائحہ عمل مشاورت سے طے کریں گے ۔دوسری جانب چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار نے غیر قانونی شادی ہال کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ شادی ہالزکے نام پر غیر قانونی قبضے کی اجازت نہیں دینگے، عدالت تعین کرےگی کہ شادی ہال کیلئے کم ازکم کتنی جگہ ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ رجسٹری میں غیرقانونی شادی ہالزسے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کسی غیر قانونی شادی ہال کو نہیں رہنے دیں گے،انہوں نے کہا کہ پہلے سے موجود شادی ہالزکوریگولرائزکرنے کی سفارشات کا جائزہ لیں گے،شادی ہالزکے نام پرغیرقانونی قبضے کرکے پلازے کھڑے کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت تعین کرےگی کہ شادی ہال کیلئے کم ازکم کتنی جگہ ہونی چاہیے۔دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے وزراء اور سرکاری افسران کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں کے استعمال کا از خود نوٹس لے لیا۔