فائرنگ واقعہ یا کچھ اور۔۔۔ جسٹس اعجاز الاحسن اب شریف خاندان کے خلاف یہ کام کریں گے، تہلکہ خیز خبر نے لیگی رہنماؤں کے ہوش اڑا دیے

لاہور:جسٹس اعجازالاحسن پاناما کیس ،نواز شریف نااہلی اور پارٹی صدارت سے ہٹانےوالے بنچ میں شامل،نیب کیسز کے مانیٹرنگ جج ہیں ۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن پا کستا ن کے سیا سی منظر پر بھونچال لانے والے عدالتی فیصلوں کا حصہ رہے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن مشہورپاناما کیس کی سما عت کرنے والے سپریم کورٹ کے بنچ کے رکن تھے

جس کے فیصلہ کے نتیجہ میں وزیراعظم نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے ،اس فیصلہ کے بعد جسٹس اعجاز الاحسن کو پاناما کیس جس میں میاں نواز شریف ان کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز،بیٹی مریم نواز،داما د کیپٹن صفدر،سمدھی اسحاق ڈار ملوث ہیں کے ٹر ائل کے نگران جج بھی مقرر کیئے گئے، ان کیسزکی سماعت راولپنڈی کی احتساب عدالت کررہی ہے، جسٹس اعجاز الااحسن اس بنچ کے بھی رکن تھے جس کے فیصلہ سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو مسلم لیگ کی صدارت سے بھی نااہل قرار دیا گیا اور جسٹس اعجاز الاحسن اس تاریخی فیصلے کا بھی حصہ ہیں جس کے تحت سابق وزیراعظم تاحیات نااہل قرار پا ئے۔چیف جسٹس پا کستان جسٹس میا ں ثاقب نثار کی طرف سے مفاد عامہ کے معاملات پر لیئے گئے از خود نوٹسوں پر کارروائی کرنے و الے سپریم کورٹ کے بنچوں میں بھی جسٹس اعجاز الاحسن رکن ہیں ان میں ایک اہم مقدمہ پنجاب کی 56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن کا بھی ہے جس کی سماعت وقوعہ سے ایک روز قبل سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کی گئی اور عدالت نے انکمپنیوں کا ریکارڈ اتوار کی رات 9بجے تک نیب کو فراہم کرنے کا حکم بھی دیا تھا، اسی روز چیف جسٹس اور جسٹس اعجاز الاحسن

کے بنچ نے ریلوے میں مبینہ کرپشن کے ازخود نوٹس کی سماعت کی اور ریلوے کا آڈٹ کرانے کا حکم بھی دیا جبکہ اسی کیس میں وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق کی سرزنش کی گئی اسی روز اس بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کر کے انسداد دہشت گردی عدالت کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے اور لاہور ہائیکورٹ کو اس سے متعلقہ مقدمات کا 2ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا ،جسٹس اعجاز الاحسن مفاد عامہ سے متعلق دیگر اہم نوعیت کے معاملات کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بنچوں کا حصہ ہیں جن کے سربراہ خود چیف جسٹس پاکستان ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدہ پر بھی تعینات رہے اور انھیں جون 2016 میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا اس وقت ججز کی سنیارٹی لسٹ پر 12ویں نمبر پر ہیں،دوران وکالت کارپوریٹ لا کے ماہر وکیل کےطور پربھی شہرت رکھتے تھے ۔