میاں صاحب : آپ یہ سمجھتے رہے کہ آپ اس ملک کے لیے ناگزیر ہیں ، عقل کل ہیں اور کسی اور کو حکمرانی کا حق نہیں یہی آپ کا قصورہے اور اسی لیے آپ کو نکالا گیا ۔۔۔۔ نواز شریف کے کیوں نکالا کا ایک اور جواب ملاحظہ کیجیے

لاہور:اللہ بھلا کرے‘ یورپ میں جب رینائسنس شروع ہوئی اور انسانوں نے ایک مہذب دنیا کی طرف سفر شروع کیا تو بادشاہوں سے سوال کرنا شروع کر دیا۔ پوپ کی اتھارٹی بھی چیلنج ہو گئی۔ انسان نے بادشاہ کا وہ اعزاز ماننے سے انکار کر دیا کہ بادشاہ غلطی نہیں کر سکتانامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

لہٰذا ا س کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی۔ جوں جوں انسانی ذہن اور تہذیب نے ترقی کی، انسان اپنے جیسے انسانوں کی حکمرانی سے بیزار ہوتا گیا اور آخرکار جمہوریت نے جنم لیا۔ اس جمہوریت کے تحت قانون کے سامنے سب برابر تھے۔ جو جتنے بڑے عہدے پر تھا‘ وہ زیادہ ذمہ دار قرار پایا۔ بادشاہ کا ایماندار ہونا لازم پایا۔ شیکسپیئر نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ بادشاہ تو چھوڑیں‘ ملکہ پر بھی شک نہیںہونا چاہیے کہ وہ کوئی غلط کام کر سکتی ہے۔ اب حکمرانوں کی غلطیوں اور کرپشن پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا تھا۔ یورپ نے اپنے حکمرانوں کی اخلاقیات کا ایک اعلیٰ معیار قائم کر دیا۔ یہ جمہوریت دھیرے دھیرے انگریز دنیا کے دیگر حصوں میں بھی لے کر گئے‘ جہاں انہوں نے ان علاقوں اور قوموں کو کالونی بنایا اور یوں ایک دن ہم سب نے دیکھا کہ یورپ میں لیڈروں کے لیے اہم ٹھہرا کہ وہ ایک عام شہری کی نسب بہتر اخلاقیات کا مظاہرہ کریں۔ وہ جھوٹ نہیں بولیں گے، وہ کرپشن نہیں کریں گے، وہ وائٹ ہائوس میں بھی رہتے ہوئے‘ اوباما کی طرح کچن کا سامان اور ٹوٹھ پیسٹ تک خود خریدیں گے یا اگر بل کلنٹن نے چھوٹا سا جھوٹ بھی بولا تو ان کا ٹرائل ہو گا۔نوازشریف کے پاس بہت مواقع تھے جو انہوں نے ضائع کیے کہ وہ جمہوریت

اور پارلیمنٹ اور سب سے بڑھ کر وزیراعظم کے عہدے کو طاقتور کرتے۔ عدالتوں سے لے کر جے آئی ٹی کے افسران تک کے سامنے ذلیل نہ ہوتے۔ انہیں ایک فیصلہ کرنا تھا‘ جو وہ نہ کر سکے کیونکہ وہ اصلی جمہوریت پسند کبھی نہ تھے۔ ورنہ وہ بھی وہی روٹ لیتے جو ہر آنر ایبل‘ دنیا کے دیگر جمہوریت پسند اور مہذب ملکوں میں لیتا ہے۔ جب پاناما سکینڈل آیا تھا اور ان کے بچوں کے نام اس میں تھے‘ تو وہ مستعفی ہو کر تاریخ بنا سکتے تھے۔ جب سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی تو بھی وہ اپنے ماتحت افسران کے سامنے پیش ہونے کی بجائے مستعفی ہو سکتے تھے۔ جب پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھایا گیا تو وہ عدالت کی بجائے پارلیمنٹ کے آگے جھک جاتے اور استعفیٰ دے کر گھر چلے جاتے لیکن نواز شریف بھی ہر حکمران کی طرح یہ سمجھتے رہے کہ وہ ناگزیر ہیں۔ وہ بادشاہ ہیں جن سے غلطی نہیں ہو سکتی اور نہ ہی سزا مل سکتی ہے۔ قدرت نے بھلا کب بادشاہوں کو معاف کیا کہ وہ نواز شریف کو معاف کرتی؟ تاریخ بے چاری کو کیا الزام دیں‘ انسان ہی کب سیکھتے ہیں؟ نواز شریف کے اندر قدیم زمانوں کے کسی بادشاہ کی روح قید تھی۔ ایک ایسا بادشاہ جو غلطی کرتا ہے اور نہ ہی اسے سزا دی جا سکتی ہے۔ قانون، انصاف اور سزائیں صرف رعایا کے لیے ہوتی ہیں، بادشاہ کے لیے نہیں۔ نواز شریف سب فائدے بیسویں صدی کی جمہوریت سے اٹھا رہے تھے لیکن ذہنی طور پر‘ مزاجاً پانچ سو برس قبل کے زمانوں میں زندہ تھے کہ جب بادشاہ کا ٹرائل نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہی اسے سزا مل سکتی تھی۔ پانچ سو سال قبل کے بادشاہوں کا مزاج لے کر پیدا ہونے والے حکمران کا بیسویں صدی میں یہی انجام ہونا تھا ،جو ہوا۔پھر یہ… ہنگامہ ہے کیوں برپا۔