pti

(ن) لیگ کا تگڑا وار، کپتان کی ایسی وکٹ اُڑا دی کہ کسی کے وہم گمان میں بھی نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔ تحریک انصاف کا بانی رہنماء ہی نواز شریف کی کشتی میں سوار ہوگیا

اٹک ضلع اٹک میں تحریک انصاف کے بانی رہنما ملک سہیل خان کمڑیال کی لاہور ماڈل ٹاؤنمیں حمزہ شہباز سے ملاقات اپنی پرانی جماعت مسلم لیگ(ن) میں واپسی کے امکانات روشن ہو گئے این اے 56سے ملک سہیل کمڑیال (ن) لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں حمزہ شہباز کے ساتھ ون ٹو ون ملاقات میں کئی معاملات طے پا گئے

قیاد ت کی جانب سے (ن) لیگ کو اٹک میں یکجا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ضلع کونسل کے انتخابات میں پنجاب بھر کے برعکس اٹک میں شکست (ن) لیگ کیلئے بہت بڑا دھچکا تھا میجر طاہر صادق نے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار سردار احسن علی خان کو حکومتی جماعت کے میر جعفر اور میر صادق جیسے کرداروں کی مدد سے شکست فاش سے دوچار کیا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ضلع کونسل کے انتخابات میں میجر طاہر صادق گروپ کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا ملک سہیل خان کمڑیال نے میجر طاہر صادق کے ساتھ اصولی اختلاف کی بنا پر پارٹی قیادت کے سامنے بھر پور احتجاج کیا مگر اس کے باوجود عمران خان نے اٹک میں اپنے ابتدائی ساتھی ملک سہیل کمڑیال کی غیر موجودگی میں ہی جب باہتر اور بعد ازاں اٹک میں میجر طاہر صادق کا شمولیتی جلسہ کر لیا تو اسی وقت سے ملک سہیل کمڑیالاور تحریک انصاف کے راستے جدا ہونا شروع ہو گئے تھے اس سے قبل بھی ضلع کونسل کے انتخابات میں ملک سہیل کمڑیال نے عمران خان کے فیصلہ کے برعکس میجر طاہر صادق کے مقابلہ کیلئے (ن) لیگ کو سپورٹ کیا مگر (ن) لیگ کامیاب نہ ہو سکی مسلم لیگ(ن) کے کئی سرکردہ لوگ بھی ملک سہیل کمڑیال کی مسلم لیگ(ن) میں واپسی کا خیرمقدم کرنے کیلئے تیار ہیں

تاہم کئی رکاوٹیں بھی آسکتی ہیں ملک سہیل خان کمڑیال نواز شریف اور شہباز شریف کے دست راست مسلم لیگ(ن) کے سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ملک لعل خان (مرحوم) کے صاحبزادے اور سیاسی جانشین بنے توابتدا میںمشرف کے بلدیاتی نظام کے تحت سابق ضلع ناظم اٹک میجر طاہر صادق کوسپورٹ کیا اور انکے ساتھ نائب ضلع ناظم منتخب ہوئے میجر طاہر صادق کے ساتھ انکا اتحاد زیادہ دیر نہ چل سکا اور وہ واپس مسلم لیگ(ن) میں متحرک ہو گئے مشرف کی آمریت میںملک سہیل کمڑیال نے ہراول دستہ کا کام کیا مگر جب (ن) لیگ کی قیادت وطن واپس آئی اور پنجاب میں اقتدار ملا تو ملک سہیل کمڑیال کے راستے آصف علی ملک ایڈووکیٹ کی جانب سے روڑے اٹکائے جانے لگے ملک سہیل خان کمڑیال نے 2013کے انتخابات سے قبلآصف علی ملک ایڈووکیٹ کے ساتھ اصولی اختلاف کی بنا پر(ن) لیگ چھوڑ دی اور تحریک انصاف جوائن کر لی ملک سہیل سونامی کے ابتدائی سپاہیوں میں تھے پنڈی گھیب میں عمران خان کا بہت بڑا تاریخی جلسہ بھی کرایااٹک میں تحریک انصاف کیلئے انکی خدمات بھی کسی کے ڈھکی چھپی نہیں2013میں جب مسلم لیگ(ن) کی کامیابی کا وقت آیا تو انا کی سیاست کرتے ہوئے اقتدار چھوڑ کر اپوزیشن میں چلے گئے

اور اب جب تحریک انصاف کی کامیابی کے امکانات بنے تو ملک سہیل کمڑیال کو ایک بار پھر پارٹی تبدیل کرنا پڑ رہی ہے ملک سہیل کمڑیال کو (ن) لیگ کے نظریاتی ووٹ کے علاوہ اپنے والد کے دھڑے اور تحریک انصاف کے کئی کارکنوں کا ووٹ بھی مل سکتا ہے پی ٹی آئی کے بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ ملک سہیل کمڑیال کے ساتھ تحریک انصاف کی قیادت نے انصاف نہیں کیاملک سہیل کمڑیال جیسے بے لوث لیڈر کے جانے سے تحریک انصاف کو نقصان ہو گا ملک سہیل کمڑیال نے عوام سے رابطے تیز کر رکھے ہیں وہ کسی پارٹی کے ٹکٹ کے بغیر بھی میجر طاہر صادق کے راستے میں رکاوٹ بننے کیلئے تیار ہیں (ن) لیگکے ٹکٹ ملنے کے بعد وہ بھر پور انداز میں پنڈی گھیب ،فتح جنگ اور جنڈ کی تحصیل میں انتخابی مہم چلائیں گے اور تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دیں گے ۔دوسری جانب ضلع اٹک کی سیاست کے میجر طاہر صادق اور انکے ساتھی ضلع اٹک کے دونوں قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی کیلئے پُرامید ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سوچنا ہو گا کہ وہ اپنے دیرنیہ ساتھی کو نظر اندازکر پائیں گے ملک امین اسلم دیانت دار اور شرافت کے پیکر مانے جاتے ہیں

صوبہ کے پی کے میں سونامی ٹری کے پروگرام کو جس طرح ملک امین اسلم نے کامیابی سے ہکمنار کیا وہ انہی کا خاصا ہے پی ٹی آئی قیادت ملک امین اسلم جیسے پرانے لیڈر کے مستقبل کا کیا فیصلہ کرتی ہے اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے تاہم این اے 55میں قومی اسمبلی کے ٹکٹ کیلئے میجر طاہر صادق کی صاحبزادی چیئرپرسن ضلع کونسل اٹک ایمان طاہر کے بھر پور متنازعہ بیانات اور امین اسلم کی جانب سے جواب نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے پی ٹی آئی لیڈر اگر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہ ہوئے تو مسلم لیگ کو فائدہ ہو سکتا ہے ۔