الیکشن 2018 : پاکستانی میڈیا کیا گند مچا رہا ہےاور چوکیدار کتے کا کردار کون ادا کر رہا ہے؟ نوجوان خاتون صحافی بینش سلیم کی یہ تہلکہ خیز تحریر ملاحظہ کیجیے

لاہور:عمومی حالات میں ہر آنے والا دن گزرے ہوئے کل سے بہتر ہوتا ہے۔ جو کہیں نہیں ہوتا وہ پاکستان میں ہوتا ہے۔ 2018ء الیکشن کا سال ہے۔ میڈیا موجودہ گورنمنٹ کو گندہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ جمہوریت پنپ رہی ہے اور ادارے مضبوط ہورہے ہیں ۔ میڈیا واچ ڈاگ کا کام کر رہاہے۔لیکن ایسا نہیں ہے۔ 1999 جیسے حالات ہی ہیں ۔

ایک امر کا حکم چلتا تھا۔ صدر اور وزیراعظم کی طرف سے آرڈیننس پر عدالت کہتی ہے کہ ایمنسٹی سسٹم کو بھی دیکھیں گے۔ 1999 میں ایک چینل تھا۔ اب بھی سو سے زائد چینل کسی نہ کسی شخصیت کو پروموٹ کر رہے ہیں ۔ وہ بھی عوام کو سچ بتانے سے قاصر ہیں ۔ نواز شریف سینئر سیاستدان ہیں اور جو ایک حد تک خاصا ووٹ بینک بھی رکھتے ہیں ۔ لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ کون ان کے خلاف سازش کر رہاہے۔ کیا عوام کی طاقت سے حکومت بنے گی ۔ کیا ایسی پارٹی جیتے گی جو ابھی معرض وجود میں آئی ہے۔ 62 ون ایف کی تشریح ماہر قوانین نے نہیں کی ۔ عدالت سیاستدانوں کے بنائے گئے قوانین کے مطابق فیصلے دے رہی ہے۔ یہ کہنا مشکل ہو گیا ہے کہ یہ سیاسی تاریخ میں سیاہ دن ہو گا یا سنہری ۔ سیاسی جمہوریت کی موت سپریم کورٹ میں ہوگی یا پیپلزپارٹی کے موقف کے مطابق اس کا فیصلہ عوام کے ووٹ کریں گے۔ عمران خان کہتے ہیں پہلی دفعہ سپریم کورٹ نے طاقت ور کے خلاف فیصلہ دیا۔ جواب اس کا بھی تاریخ دے گی کہسپریم کورٹ طاقت ور کے خلاف ہے یا طاقت کے ساتھ کھڑی ہے۔ مریم نواز کہتی ہیں جب تک یہ ججز کرسیوں پر موجود ہیں فیصلہ ایسا ہی آنا تھا لیکن شاید تاریخ میں ایک جوڈیشل موڑ کی مثال بھی موجود ہے۔ آنے والا وقت ثابت کر ےگا کہ پاکستان میں سیاست، صحافت اور عدالت کبھی آزاد بھی تھے یا ان سے فیصلے کرائے جاتے رہے ہیں ۔ پاکستان میں جمہوریت پروان چڑھنے کے بجائے برباد ہو رہی ہے اور عوام ہر دن کے ساتھ شدید سیاسی تذبذب کا شکار ہورہی ہے۔ کیا پاکستانی سیاست سے گند صاف ہورہاہے یا مزید گند ہورہاہے۔ ادارے مضبوط ہورہے ہیں یا آپس میں متصادم ہو کر کمزور ہو رہے ہیں ۔ جس سے ملک اور ریاست کو نقصان ہونے کا اندیشہ بڑھنے کا امکان موجود ہے۔