خان صاحب جب تک آپ اکیلے تھے سیاسی طور پر ایک کامیاب لیڈر تھے مگر ان دو لوگوں کو ساتھ ملا کر آپ نے اپنی کشتی میں سوراخ کر لیا ہے ۔۔۔۔۔معتبر خاتون صحافی نے عمران خان کو بڑے کام کی بات کہہ دی

لاہور حزب اختلاف کا لاہور میں سیاسی شو کی ناکامی کی خبروں میں عمران خان کے لئے بد خبری پنہاں ہے۔ گو کہ عمران خان نے وزارت عظمیٰ کی خوش خبری کے لئے بی بی بشریٰ سے شادی کی لیکن لاہور جلسہ میں بشریٰ کی روحانیت خوش خبری کی بجائے بد خبری ثابت ہوئی۔نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء چیمہ اپنے آج کے کالم میں لکھتی ہیں

حزب اختلاف کا لاہور میں سیاسی شو کی ناکامی کی خبروں میں عمران خان کے لئے بد خبری پنہاں ہے۔ گو کہ عمران خان نے وزارت عظمیٰ کی خوش خبری کے لئے بی بی بشریٰ سے شادی کی لیکن لاہور جلسہ میں بشریٰ کی روحانیت خوش خبری کی بجائے بد خبری ثابت ہوئی۔ عمران خان نے جب بھی اپنے جلسوں میں طاہر القادری کو بٹھایا ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اسلام آباد دھرنے کے دوران ریحام خان سے خفیہ نکاح بدشگونی ثابت ہوا اور اب لاہور دھرنے میں بشری مانیکا سے نکاح بد شگونی کی خبر لایا۔ ہر اہم دھرنے سے پہلے ایک خفیہ نکاح ضروری تھا؟ عمران خان سیاسی طور پر جب تک اکیلا تھا کامیابی اور مقبولیت کے عروج پر تھا۔ جب سے طاہر القادری اور شیخ رشید کو ساتھ جوڑا ہے سیاسی پسپائی ہوئی، وزارت عظمیٰ مزید دور ہوتی جا رہی ہے اور مزید ظلم یہ کہ آصف علی زرداری کواتحاد میں شامل کر لیا ہے؟ لاہور جلسے نے نواز شریف کو مظلوم ثابت کرنے میں مدد دی ہے۔ ہمیں اس سوچ سے اتفاق ہے کہ آصف علی زرداری نے اسمبلیوں کی مدت پوریکرانے کے لئے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ہے۔ انہوں نے بڑی مہارت سے ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک کو ہائی جیک کر لیا ہے، اب وہ انہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر باقی ماندہ پانچ ماہ بھی آسانی سے گزار دیں گے۔

شہبازشریف بھی وہیں رہیں گے اور رانا ثناءاللہ بھی، پنجاب حکومت کا بھی کچھ نہیں بگڑے گا اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت بھی مدت پوری کر لے گی۔ آصف علی زرداری کے خطاب میں کہیں نہیں لگا ہے کہ وہ اس نظام کے خاتمے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ نواز شریف کو نیا شیخ مجیب الرحمن کہنے کے سوا انہوں نے ساری تقریر میں اور کیا کہا ہے۔ انہوں نے بھرے جلسے میں نوازشریف کو یہ تسلی بھرا پیغام دیا ہے کہ میں ان کی حکومت گرا سکتا ہوں، مگر نہیں گراوں گا، کیونکہ میں نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ آپ کی حکومت بھی پانچ سال پورے کرے گی۔ شیخ رشید بھی جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیاست کی ا±ڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں، آصف علی زرداری کے نواز شریف کے خلاف متحرک ہونے پر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ آصف علی زرداری اور نوازشریف کے درمیان فطری اتحاد ہو سکتا ہے، آصف زرداریاور عمران کے درمیان نہیں۔ عمران خان کی تو ساری سیاست ہی نواز شریف اور آصف علی زرداری کی مخالفت پر مبنی ہے۔ لاہور جلسے میں ا±نہوں نے آصف علی زرداری کے ساتھ بیٹھنا تک گوارا نہیں کیا، کیونکہ ایسا کرنے پر وہ ”سندھ کی بیماری، آصف زرداری“ یا ”زرداری سندھ کا سب سے بڑا ڈاکو ہے

“ والے نعروں کو کسی طرح بھی دوبارہ نہیں لگا سکتے تھے۔ نوازشریف اور آصف علی زرداری اس لئے فطری اتحادی ہیں کہ دونوں پر کرپشن کے الزامات ہیں، دونوں کے اثاثے بیرون ملک موجود ہیں، دونوں اسٹیبلشمنٹ کو اپنا حریف سمجھتے رہے ہیں اور دونوں کی اب بھی کوشش یہی ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سوا کوئی تیسری جماعت اقتدار میں نہ آئے۔ یہ تو ہے سیاسی تجزیہ لیکن ہوتا وہی ہے جو پروردگار چاہتا ہے۔ یہ دنیا مکافات عمل ہے۔ نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کو ہر طرح کی سیاسی اذیت پہنچائی اور عمران خان نے نواز شریف کو اس سے کئی گنا زیادہ تکلیف پہنچائی کہ نااہل تک ہونا پڑا۔ وقت آگے کیا کیا رنگ دکھائے گا یہ بھی وقت ہی بتائے گا کہ رنگ بدلتا ہے آسمان کیسے کیسے…. کسی جلسے کی ناکامی یا کامیابی سے مستقبل کے نتائج اخذ نہیں کئے جا سکتے۔ اللہ پاکستان پر خصوصی نظر کرم فرمائے۔