جب دنیا کی حسین وجمیل عورت حضرت جنید بغدادی ؒ کا امتحان لینے اکیلی ان کے حجرے میں پہنچی اور

اسلام آباد : حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ تعالیٰ کے دور میں ایک امیر شخص جس کی بیوی رشک قمر اور پری چہرہ تھی،اس کو اپنے حسن پر بڑ اناز تھا . ایک مرتبہ بناؤ سنگھار کرتے ہوئے اس نے ناز نخرے سے اپنے شوہر سے کہا ’’ کوئی شخص ایسا نہیں جو مجھے دیکھے اور میری طمع نہ کرے‘‘ خاوند نے کہا ’’مجھے امید ہے کہ

جنید بغدادیؒ کو تیری پروا بھی نہیں ہوگی‘‘ بیوی نے کہا’’ مجھے اجازت ہو تو جنید بغدادیؒ کو آزمالیتی ہوں. یہ کون سا مشکل کام ہے ، یہی گھوڑا اور یہی گھوڑے کا میدان. دیکھ لیتی ہوں جنید بغدادی کتنے پانی میں ہیں‘‘ خاوند نے اجازت دے دی. وہ عورت بن سنور کر جنید بغدادیؒ کے پاس آئی اور ایک مسئلہ پوچھنے کے بہانے اس نے منہ پر دلفریب مسکان پیدا کی اورجھٹ چہرے سے نقاب الٹ دیا.اس نے اپنے دلفریب حسن سے بڑا گہرا وار کیا تھا . جنید بغدادیؒ کی نظر پڑی تو یکایک انہوں نے زور سے اللہ کے نام کی ضرب لگائی، اس عورت کے دل میں یہ نام پیوست ہوگیا۔،اس کے دل کی حالت بدل گئی، وہ اپنے گھر واپس آئی اور سب ناز نخرے چھوڑ دئیے. زندگی کی صبح و شام بدل گئی. سارا دن قرآن مجید کی تلاوت کرتی اور ساری رات مصلّے پر کھڑے ہوکرگزار دیتی. خشیت الہٰی کی وجہ سے آنسوؤں کی لڑیاں اس کے رخساروں پر بہتی رہتیں.