آزاد کشمیر : 16 سالہ لڑکی کے ساتھ زیا دتی اور پھر قتل، انسانیت کو لرزا دینے والے واقعہ میں پولیس نے لواحقین کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ دلخراش خبرآ گئی

مظفرآباد:آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ میں 3 ہفتے قبل لاپتا ہونے والی ایک لڑکی کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کرکے لاش برساتی نالے میں پھینک دی گئی۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لڑکی سے زیادتی کی تصدیق ہوئی۔پولیس کے مطابق علی سوجل کے نواحی علاقے جبوتہ علی میںایک 16 سالہ لڑکی کی تشدد زدہ لاش برساتی نالے سے برآمد ہوئی۔

لڑکی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لڑکی کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔واقعے کے بعد مقتولہ کے لواحقین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔لڑکی کے والد نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے 3 ہفتے قبل اپنی بیٹی کی گمشدگی کی رپورٹ پولیس کو دی تھی، لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے قصور کے مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں مدثر کی ہلاکت کے معاملے پر گواہوں کے بیانات دوبارہ قلمبند کرانے کی پراسیکیوشن کی درخواست منظور کر لی۔عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کا حکم دے دیا ۔ لاہور ہائیکورٹ نے قصور کے مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں مدثر کی ہلاکت کے معاملے پر گواہوں کے بیانات دوبارہ قلمبند کرانے کی پراسیکیوشن کی درخواست منظور کر لی۔تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ کے جسٹس انوارالحق نے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عبدالصمد نے دلائل دئیے کہ مدثر کو جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کے معاملے پر پولیس نے فرضی کہانی بنا کر چالان عدالت میں پیش کیا۔ زینب قتل کیس میں

تحقیقاتی ٹیم کے سامنے مدثر کے جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کا انکشاف ہوا۔عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی کہ عدالت مقدمہ کے گواہوں کے بیانات دوبارہ قلمبند کرانے کا حکم دے ۔عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے پراسیکیوشن کی درخواست منظور کر لی اور گواہوں کے بیانات دوبارہ قلمبند کرنے کا حکم دے دیا۔مزید برآں لاہور ہائیکورٹ نے قصورمیں مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں مدثر کو ہلاک کرنیوالے پولیس افسروں کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر پولیس افسر ریاض عباس اور یونس ڈوگر کو 6 اپریل کو طلب کر لیا۔یاد رہے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے قصور جعلی پولیس مقابلے میں مدثر نامی نوجوان کی ہلاکت پر لئے گئے از خود نوٹس کیس میں ضمانتوں پر رہائی پانے والے تمام ملزم پولیس افسران کی ضمانتوں کی منسوخی کے لئے دائر درخواستیں دو یوم میں نمٹانے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ لاہور ہائیکورٹ کو ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف گواہوں کے بیانات قلمبند نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پیر کے روز نمٹانے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں مسٹر جسٹس عمر عطاء بندیال، مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پرم شتمل تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں از خود کیس کی سماعت کی۔ سماعت شروع ہوتے ہی چیف جسٹس نے مدثر کو پولیس مقابلے میں مارنے کے مقدمے میں نامزد اور ضمانت پر رہائی پانے والے تمام ملزم پولیس افسران کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالتی حکم پر ضمانتوں پر رہا کئے گئے ملزم پولیس افسران پیش ہوئے۔