احد چیمہ کرپشن کیس: پنجاب حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں کی قلی کھل گئی ، سابق ڈی جی ایل ڈی اے کو بچانے کیلیے ناقابلِ یقین پلان کا انکشاف ہو گیا

لاہور:آشیانہ ہائوسنگ سکیم کرپشن سکینڈل میں گرفتارسابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کی گرفتاری کیخلاف سماعت کرنے والا 2 رکنی بنچ تحلیل ہو گیا، چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے نیا بنچ تشکیل دے دیا،بنچ میں جسٹس قاسم علی شاہ اور جسٹس طارق عباس شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق احد چیمہ کی

گرفتاری کیخلاف سماعت کرنے والا بنچ تحلیل ہونے پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے نیا بنچ تشکیل دے دیا ،نیا بنچ آئندہ ہفتے احد چیمہ کی درخواست پر ازسرنو سماعت کرے گا۔واضح رہے کہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ نے نیب کی گرفتاری کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ۔یاد رہے ایف بی آر کی بلڈنگ میں پراسرار طور پر آگ بھڑ ک اٹھی۔آگ پانچویں منزل پر لگی ، کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفس بھی اسی فلورپر ہے نیب نے شریف فیملی کی شوگر ملز سمیت اہم ریکارڈ ٹیکس آفس سے طلب کر رکھا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں ایف بی آر کی بلڈنگ میں گزشتہ شام پراسرار طور پر آگ بھڑک اٹھی جس سے اہم ریکارڈ جل جانے کا خدشہ ہے ۔ آگ پانچویں منزل پر لگی جہاں کارپوریٹ ریجنل ٹیکس کا دفتر ہے ۔ کارپوریٹ ریجنل ٹیکس کا دفتر سیاست دانوں ، بڑے صنعت کاروں ، شوگر ملز، ایل ڈی اے ، ہاؤسنگ سوسائٹیز سمیت تمام بڑی کمپنیوں کے ٹیکس معاملات کو ڈیل کرتا ہے ۔ نیب نے احد چیمہ، خواجہ سعد رفیق ، شریف فیملی کی شوگر ملوں سمیت کئی اہم کیسز میں اس کارپوریٹ ریجنل ٹیکس یونٹ سے ریکارڈ طلب کر رکھا ہے ۔ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق دفتر میں نیب کو ریکارڈ کی فراہمی کے حوالے سے کام جاری تھا ۔

فائر بریگیڈ نے تقریباً دوگھنٹے کے بعد آگ پر قابو پالیا ۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ یوپی ایس میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی ۔ ایف بی آر افسروں کی جانب سے آگ میں جل جانے والے ریکارڈ کے حوالے سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ۔دوسری جانب احد چیمہ کی گرفتاری کےبعد سے حکومت اور نیب کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور اب حکومت نے نیب کو لگام ڈالنے کیلئے منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے انسداد بدعنوانی کیلئے متحرک ہونے والے ادارے نیب کو لگام ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے حکومت نے نیب کیخلاف مںصوبہ بھی تیار کر لیا ہے۔ حکومت کی جانب سے نیب کو مالی طور پر مفلوج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت نے اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں نیب کے ملازمین کے الاونس بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے نیب کے تمام ملازمین کے خصوصی الاونسز کو بند کر دیا جائے گا۔ جبکہ نیب کے سیکرٹ فنڈ پہلے ہی بند کر دیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے نیب کو دباو میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ حکومت کیخلاف کھولے جانے والے کیسز کو زیادہ مت چھیڑا جائے۔قدامات کے ذریعے نیب کو دباو میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ حکومت کیخلاف کھولے جانے والے کیسز کو زیادہ مت چھیڑا جائے۔