chief justice saqib nisar

پی آئی اے والے حاضر ہوں ۔۔۔ چیف جسٹس نے باکمال لوگوں کی لاجواب سروس کے دعویداروں کو کیوں کٹہرے یں لا کھڑا کیا ۔۔؟ خبر آ گئی

کراچی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پی آئی اے میں مسافروں کا سامان غائب ہونے سے متعلق سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مسافروں کو سہولتیں دینا ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی

میں پی آئی اے میں مسافروں کا سامان غائب ہونے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سول ایوی ایشن، کسٹم اور اے این ایف حکام نے رپورٹ پیش کیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ادارے الگ الگ رپورٹ نہ دیں، ایک رپورٹ دی جائے کہ آسانی کے لیے کیا اقدامات اٹھائے ؟۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ بعض تجاویز پراے ایس ایف کا اعتراض سامنے آیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انا کا معاملہ ہے، ادارے اپنا اپنا کنٹرول چاہتے ہیں، اس طرح توادارے اپنی اپنی چلائیں گے، مسافروں کا کیا ہوگا؟۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ اداروں کی انا میں مسافر کہاں جائیں؟ سول ایوی ایشن کیوں مرکزی کردارادا کرتی ہے؟۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ایوی ایشن بورڈ کیوں نہیں بناتی جو سارے معاملات حل کرے، مسافروں کو سہولتیں دینا ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ڈی جی سول ایوی ایشن اجلاس کریں اورفیصلوں سے آگاہ کیا جائے، سیکریٹری قانون وانصاف نے کہا کہ 18 گھنٹے میں ایک مرتبہ کھانا دیا جاتا ہے، قانون ہے ہر3 گھنٹے بعد کھانا دیا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سول ایوی ایشن نے کیا ایکشن لیا

، مسافروں کی تکالیف برداشت نہیں کریں گے۔ایک اور جگہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے نے ریمارکس دیئے ہیں کہ میں مداخلت کا تصور نہیں رکھتا لیکن ہمیں مجبوری میں مداخلت کرنا پڑتی ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں مٹھی، تھرپارکر میں 5 بچوں کی ہلاکت سے متعلق معاملے کی سماعت ہوئی۔سماعت کے آغاز پر سیکریٹری صحت نے بچوں کی ہلاکت سے متعلق رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ کم عمر میں شادی اور زائد بچوں کی پیدائش وجہ اموات ہے جب کہ ڈاکٹرز مٹھی تھرپارکر جیسے اضلاع میں جانے کو تیار نہیں۔سیکریٹری صحت کی رپورٹ پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ سے لگتا ہے آپ کا قصور ہی کوئی نہیں، لکھ کہ جان چھڑا لی کہ کم وزن والے بچے مرجاتے ہیں، سندھ میں صحت کے بہت مسائل نظرآرہے ہیں، سیکریٹری صاحب آپ کسی اور محکمے میں خدمت کے لیے کیوں نہیں چلے جاتے۔سیکریٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ بچوں کی 50 فیصد اموات نمونیہ اور ڈائریا سے ہوتی ہے جب کہ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ مٹھی میں بہترین اسپتال بنادیا اور تھر میں مفت گندم تقسیم کرتے ہیں۔جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ سب معلوم ہے کتنی گندم مفت تقسیم ہوئی، سب کرپشن کی نذر ہو گیا۔