بریکنگ نیوز: پاکستان میں ہائی الرٹ ۔۔ داعش پاکستان کے کن کن شہروں میں دہشتگردی کا منصوبہ بنا چکی ہے؟ انتہائی تشویشناک رپورٹ آ گئی

اسلام آباد :نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے چیئرمین احسان غنی کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے پاکستان کو خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔وفاقی دارالحکومت میں ’اسلام آباد انٹرنیشنل کاؤنٹر ٹیررازم فورم‘ کی تین روزہ تقریب کے اختتامی دن پریس کانفرنس کرتے ہوئے نیکٹا کےقومی معاون احسان غنی کا کہنا تھا کہ شدت پسند تنظیم داعش

کے جنگجو اس وقت بڑی تعداد میں افغانستان میں موجود ہیں، جن کا پاکستان تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’ہم خود کو افغانستان کے حالات سے علیحدہ نہیں رکھ سکتے، تاہم پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑ واضح فرق ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ خفیہ معلومات کے مطابق پاکستان کو ایسے دہشت گرد نشانہ بناتے ہیں جو افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں، جبکہ افغان پناہ گزین کمیپوں میں موجود عسکریت پسندوں کی جانب سے دہشت گرد کارروائیاں کرنے کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔افغان پناہ گزینوں کو پاکستان میں رہائش کی عارضی توسیع کے حوالے سے سوال کے جواب میں چیئرمین نیکٹا کا کہنا تھا کہ حکومت کچھ معاملات میں یک طرفہ فیصلہ نہیں کرتی، اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں افغان پناہ گزینوں کی زبردستی واپسی کی پالیسی نے کام نہیں کیا تھا کیونکہ جنہیں ٹرک میں ڈال کر زبردستی افغانستان بھیجا گیا تھا وہ کسی نہ کسی طرح واپس پاکستان آگئے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی میں اختتام کے دہانے پر ہے جو افغان پناہ گزینوں سے متعلق مسائلکو حل کرنے میں معاون ثابت ہوگی جبکہ

اس میں غیر سرکاری تنظیمیں اور بین الاقوامی تنظیمیں بھی حصہ لے رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آئندہ سیشن کے دوران افغان جنگ اور اس کے اثرات کے بارے میں بھی فورم میں بات چیت کی جائے گی۔چیئرمین نیکٹا کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا، اور دنیا بھر میں پاکستان کے ’مظلوم سے فاتح‘ کے سفر کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کامیابی کی اس کہانی کو دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کہانی پر نہ صرف پاکستان اور دنیا بھر کے لیے مستقبل کے چیلنجز اور خطرات پر بات کرنے کی ضرورت ہے بلکہ خطے اور دنیا بھر کے استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔یاد رہے کہ رواں ماہ 12 مارچ کو نیکٹا نے ملک میں نفرت انگیز تقاریر سے لڑنے اور انہیں رپورٹ کرنے کے لیے ’چوکس‘ کے نام سے ایک ایپلی کیشن متعارف کرائی تھی۔