بریکنگ نیوز: نواز شریف کا وکیل نیب کے اہم ترین عہدیدار نے لڑ پڑا۔۔۔ وجہ کیا بنی؟ ہوش اڑا دینے والی خبر آ گئی

اسلام آ باد :گلف اسٹیل کے کنٹریکٹ کو درست تسلیم کیا، تصدیق نہیں کرائی، واجد ضیائ، احتساب عدالت میں لندن فلیٹس ریفرنس کی سماعت خواجہ حارث کی جرح ،جیرمی فیری مین کو متفقہ سوالنامہ بھیجا، سربراہ جے آئی ٹی، ڈار ضمنی ریفرنس میں فرد جرم پھر عائد نہ کی جا سکیاحتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف لندن فلیٹس ریفرنس میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء پر تیسرے دن بھی جرح جاری رہی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نوازاور کیپٹن (ر) صفدر عدالت میں پیش ہوئے ۔ واجد ضیاء نے بتایا کہ گلف اسٹیل مل کے کنٹریکٹ کی تصدیق نہیں کرائی۔ اسے درست تسلیم کیا۔ مل کی مشینری شارجہ سے جدہ بھیجی گئی۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت شروع کی تو جرح کے دوران واجد ضیا ء نے بتایا کہ سپریم کورٹ کو ملنے والی تمام درخواستوں کے جائزے کے بعد جے آئی ٹی نے تفتیش شروع کی۔ شریف خاندان کے جواب میں جیرمی فیری مین کا خط موجود تھا ، جس میں حسن نواز کی کومبر گروپ، نیلسن اینڈ نیسکول سے متعلق ٹرسٹ ڈیڈ پر 2 جنوری 2006 ء میں دستخط کی تصدیق کی گئی۔ ہم نے براہ راست نہیں بلکہ سولیسٹر کے ذریعے جیرمی فیری مین سے رابطہ کیا اور متفقہ سوالنامہ بھیجا لیکن انہیں پاکستان آنے کا نہیں کہا۔ خواجہ حارث کے گلف اسٹیل سے متعلق سوال پر واجد ضیاء نے بتایا ہماری تفتیش اور دستاویزات کے مطابق گلف اسٹیل 1978 ء میں بنی۔ کنٹریکٹ کی تصدیق کرائے بغیر اس کے مندرجات کو تسلیم کیا۔مل کے معاہدے کے گواہ عبدالوہاب سے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ 1980 ء کے معاہدے کے مطابق 25 فیصد رقم کیش کی صورت میں وصول کی گئی۔ معاہدے کے نوٹرائز پاکستانی قونصلر منصور حسین سے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

دوسرے گواہ محمد اکرم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ اپنے پتے پر موجود نہ تھے ۔ رقم ادا کرنے والے عبداللہ سے رقم کی ادائیگی سے متعلق بھی رابطہ نہیں کیا گیا۔ خواجہ حارث نے پوچھا 1978 ء میں 75 فیصد شیئرز کی رقم کتنی تھی؟ واجد ضیاء نے بتایا 2 کروڑ 10 لاکھ درہم بنتے تھے ۔ اس بات کا علم نہیں کہ گلف اسٹیل کے خریدار عبداللہ قائد کے بیٹے عبدالرحمٰن نے اسٹیل مل کی خریداری اور رقم کے حوالے سے بیان دیا تھا یا نہیں۔ واجد ضیاء نے بتایا جے آئی ٹی کے پاس ایسی کوئی دستاویز نہیں جس پر سپریم کورٹ کی مہر ہو۔ ایک موقع پر واجد ضیاء نے کہا وہ کچھ اور باتیں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر فاضل جج نے کہا اب آپ اور نہ بولیں۔ سماعت کے دوران نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر اور خواجہ حارث میں سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔ خواجہ حارث نے کہا ہم جو کر رہے
ہیں وہ کافی مینٹل کام ہے ، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا آپ مینٹل ہو گئے ہیں، آپ کی عمر کا تقاضا ہے ۔ خواجہ حارث نے کہا آپ کو مینٹل نہیں کہا۔ واجد ضیائنے ان سے کہا آپ مجھے ہدایات نہ دیں۔ خواجہ حارث نے کہا پہلے یہ بتائیں کہ میں نے آپ کو کیا ہدایات دیں؟ تب ہی آگے چلیں گے ۔ کیا آپ کی اور میری کوئی لڑائی ہے

واجد ضیاء نے جواب دیا نہیں۔ ہم آپ کو جانتے ہیں، آپ کافی پروفیشنل ہیں۔ کیس کی سماعت پیر کی صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ دوسری جانب احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ضمنی ریفرنس میں ایک بار پھر شریک ملزموں پرفرد جرم عائد نہ کی جاسکی۔ سماعت شروع ہوئی تو تینوں ملزم سعید احمد، نعیم محمود اورمنصور رضا عدالت میں پیش ہوئے ، تاہم ملزموں کے وکیل حشمت حبیب پیش نہ ہوئے ۔ ان کے معاون وکیل نے استدعا کی کہ وکیل کی عدم موجودگی میں سماعت ایک دن کے لیے ملتوی کر دیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا فرد جرم عائد کریں، وکیل کی ضرورت نہیں۔ اس پر فاضل جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ لوگوں کو بھی مزا آتا ہے ۔ روز آتے ہیں اورآتے ہی فرد جرم عائد نہ کرنے کی استدعا کردیتے ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 2 اپریل تک ملتوی کر دی۔