chief justice saqib nisar

انسانی ہمدردی نہیں بلکہ ۔۔۔بھارتی شہری سے متعلق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ناقابلِ یقین بیان جاری کر دیا

اسلام آبادچیف جسٹس نے بھارتی شہری کو پاکستانی شہریت دینے کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہا کہ ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار نہیں تھا پاکستانی شہریت دینے کا حکم کیسے دے دیا اسطرح تو پنڈورا باکس کھل جائے گا،انسانی ہمدردی کو نہیں بلکہ ہم نے قانون کو دیکھنا ہے

،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی،درخواست گزارکے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اصغر زیدی نے پاکستانی شہری رخسانہ سے 16فروری 2004سے شادی کی، 18مئی2016کولاہورہائی کورٹ ملتان بینچ نے پاکستانی شہریت کے قانون کی شق دس کی ذیلی شق دو کے تحت سید اصغر زیدی کو شہریت دینے کا حکم دیا، سپریم کورٹ نے سلمان بٹ ایڈووکیٹ کوعدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے قرار دیا کہ ہائیکورٹ کو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو سننا چاہیے تھا۔عدالت نے اٹارنی جنرل اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت مئی کے پہلے کیلئے ملتوی کردی۔ دوسری طرف آج اہم کیسز کی سماعت کت دوران سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس اور سینئر صحافی مظہر عباس کے درمیان ’ٹیک اوور‘ سے متعلق دلچسپ مکالمہ ہوا۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ میں صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سینئر صحافی مظہر عباسی سے مکالمہ کیا کہ مظہر صاحب آپ سمجھتے ہیں میں ٹیک اوور کرنے کے چکر میں ہوں؟اس پر مظہر عباس نے کہا کہ آپ جوکام کررہے ہیں

وہ حکومت کا کام تھا، بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔جسٹس ثاقب نثار کہا کہ مجھے تو میڈیا نے روک دیا کہ آپ انصاف کیلئے بیٹھے ہیں یہ نہ کریں۔اس موقع پر سینئر صحافی مظہر عباس نے عدالت کو بتایا کہ آپ کےحکم کے باوجود خالد بن ولید روڈ پربلند عمارتیں بن گئیں، آدھی کارسازروڈ کوبند کیا گیا ہے، کراچی کی تمام سروس روڈ بحال کرادیں ٹریفک جام کا مسئلہ حل ہوجائیگا۔مظہرعباس کے آگاہ کرنے پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیوی نے بند کیا ہے؟ ابھی کھلواتے ہیں۔مظہر عباس نے عدالت کو بتایا کہ ایس آئی یو ٹی اورسول اسپتال کے پاس تجاوزات کی بہتات ہے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ صرف لکھیں مت، عملی کام کریں آپ کو کمیٹی میں ڈالتا ہوں۔وسیم اختر عدالت میںاس موقع پر میئر کراچی وسیم اختر نے عدالت کو بتایا کہ نالوں پر بڑی بڑی غیر قانونی عمارتیں اور مارکیٹیں بن گئی ہیں، بلڈنگز نہیں گراسکتے، پہلے مرحلے میں نالے صاف کریں گے، چار بڑے نالوں پر کام جاری ہے آپ چاہیں تو دورہ کرلیں۔وسیم اختر کے بتانے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا چیف جسٹس کام خود کرنے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتا، مظہرصاحب سے پوچھیں رات کو ٹی وی پر تنقید تو نہیں کریں گے؟