’’میں ٹیک اوورکرنے والا ہوں‘‘ کمرہ عدالت میں سینئر صحافی مظہر عباس اور چیف جسٹس ثاقب نثار کے درمیان ایسی بحث کا آغاز ہوگیا کہ حکومت بھی دنگ رہ گئی

کراچی ’’میں ٹیک اوورکرنے والا ہوں‘‘ کمرہ عدالت میں سینئر صحافی مظہر عباس اور چیف جسٹس ثاقب نثار کے درمیان ایسی بحث کا آغاز ہوگیا کہ حکومت بھی دنگ رہ گئی،تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ میں صاف پانی کی فراہمی و نکاسی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثارنے

سینئر صحافی مظہر عباس سے استفسار کیا کہ مظہرصاحب آپ سمجھتے ہیں کہ میں ٹیک اوورکرنے کے چکرمیں ہوں؟۔جس پر سینئر صحافی نےچیف جسٹس آف پاکستان کو حیرت انگیزطورپرجواب دیاکہ آپ جوکام کررہے ہیں وہ حکومت کا کام تھا،معروف صحافی مظہر عباس نے بتایا کہ بنیادی سہولیات کے لئے بہت سے کام کرنے کی ضرورت ہے، جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ’’مجھے تو میڈیا نے روک دیا‘‘ کہ آپ ’’انصاف کیلئے بیٹھے ہیں یہ نہ کریں‘‘ اس موقع پر مظہر عباس نے انکشاف کیا کہ عدالت کے حکم کے باوجود خالد بن ولید روڈ پر بلند عمارتیں تعمیر ہوگئیں جبکہ آدھے کارساز روڈ کو بھی بند کردیاگیا ہے ، تجاوزات کی بہتات ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ عدالت تمام سروس روڈ بحال کروادے کراچی میں ٹریفک جام کا مسئلہ حل ہوجائے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی کھلواتے ہیں، علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے واٹر کمیشن نے 200 مسلمان خاکروبوں کو برطرف کرنے کا حکم جاری کردیا ہے اور کراچی میں مکمل کچرا صاف کرنے کا حکم دے دیا ہے، سپریم کورٹ کی واٹر کمیشن کی سربراہی جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کررہے ہیں ،واٹر کمیشن میں سماعت کے دوران منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) سائیٹ، ایس ایس پی ویسٹ،

چینی کمپنی کے نمائندے ،، سولڈ ویسٹ مینجمنٹ حکام، کراچی کی تمام ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن(ڈی ایم سیز) کے چئیرمین پیش ہوئے اس موقع پر جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ ہر جگہ کچرا ہی کچرا ہے اور 1200 جھاڑو دینے والے ہیں، بتائیں کہ، ان میں سے کتنے مسلمان ہیں؟ جس پر ریحان ہاشمی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ضلع وسطی میں 200 مسلمان جھاڑو دینے والے ورکرہیں جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا مسلمان گٹر صاف کرتے ہیں؟ریحان ہاشمی کے منفی جواب پر چیف جسٹس نے انہیں فوری طورپر نکال دینے کے احکامات جاری کردیئے ،جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ سیاسی بھرتیاں ہوں گی تو معاملات خراب ہوں گے، خاکروبوں کی پوسٹ پر مسلمان کیسے بھرتی ہوئے؟کہیں صفائی نہیں ہے۔اس موقع پرسیکریٹری بلدیات نے بتایاکہ کہ ڈی ایم سیز کے 13 ہزار ملازمین میں سے 1380 ملازمین جعلی نکلے جس پر کمیشن نے استفسار کیا کہ آپ ان جعلی ملازمین کو نکالتے کیوں نہیں ہیں؟ اس موقع پر ضلع جنوبی میں چائنیز کمپنی کی کارکردگی کا پول بھی کھل گیاسیکرٹری بلدیات نے چایئنز کمپنی کے بارے میں انکشاف کیا کہ یہ ایجنٹ ہیں، اصل مالکان پتہ نہیں کہاں ہیں۔کمیشن نے کچرا اٹھانے والی کمپنی کی ادائیگی بند کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کمپنی کے مالک کو پیش کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

علاوہ ازیں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے تھر پارکر میں بچوں کی ہلاکت کیس میں سیکریٹری صحت کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ لاڑکانہ ہسپتال کی ویڈیو دیکھ کر شرم آرہی ہے، پھر کہتے ہیں کہ ہم بیوقوف ہیں جو ایگزیکٹو کے کام میں مداخلت کرتے ہیں، مجبوراً میں ہمیں ایگزیکٹو کے کاموں میں مداخلت کرنا پڑتی ہے، لوگ سمجھتے ہیں میں ٹیک اوور کرنے کے چکر میں ہوں۔عدالت نے آغا خان اسپتال کے چیف ایگزیکٹو کو ایک ماہ میں تحقیقات مکمل کرکےرپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ہفتہ کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سول اسپتال مٹھی تھرپارکر میں 5 بچوں کی ہلاکت کے کیس کی سماعت ہوئی۔ سیکرٹری صحت نے رپورٹ پیش کی کہ بچوں کی زیادہ تر ہلاکتیں کم وزن، نمونیا اور ہیضے سے ہوتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کم عمری کی شادی اور زیادہ بچوں کی پیدائش بھی موت کی وجوہات میں شامل ہیں، ڈاکٹرز مٹھی جیسے علاقوں میں ڈیوٹی کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔رپورٹ دیکھ کر چیف جسٹس ثاقب نثار برہم ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ رپورٹ سے لگتا ہے آپ کا قصور ہی کوئی نہیں۔ رپورٹ دے کر جان چھڑالی کہ کم وزن والے بچے مر جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں صحت کے بہت مسائل نظر آ رہے ہیں۔ سیکرٹری صاحب آپ کسی اور محکمے میں خدمت کیلئے کیوں نہیں چلے جاتے۔سیکریٹری صحت نے بتایا کہ 50 فیصد اموات نمونیہ اور ڈائریا سے ہوتی ہیں۔ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت نے تھرپارکر میں بہترین اسپتال بنایا اور گندم مفت تقسیم کی جاتی ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں۔کتنی گندم مفت تقسیم ہوئی، بلکہ سب کرپشن کی نذر ہوگئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک نہیں بار بار بچوں کی ہلاکت کے واقعات ہورہے ہیں، ہمیں انتظامیہ کے کاموں میں مجبوراً مداخلت کرنا پڑتی ہے، پھر کہتے ہیں ہم بے وقوف ہیں جو انتظامی کاموں میں مداخلت کرتے ہیں، لاڑکانہ اسپتال کی ویڈیو دیکھی مجھے شرم آرہی تھی صورت حال دیکھ کر، والدین بچوں کو اسپتال میں داخل کرتے ہیں کچھ دیر بعد لاش تھما دی جاتی ہے، ماں باپ کے پاس رونے کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے رضا ربانی سےمکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ ہماری مدد کریں، خود دیکھ کر آئیں، ہسپتال میں کیا ہو رہا ہے، پھول جیسے بچے والدین کے بعد سرکاری ہسپتالوں کے مرہون منت ہیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا لاڑکانہ کتنی دور ہے، کیا فاصلہ ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا بذریعہ جہاز ایک گھنٹے میں پہنچ سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا دیکھتے ہیں کہ کیا خود لاڑکانہ جا کر ہسپتال کا جائزہ لوں، ادویات فراہم کرنا کس کا کام ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سندھ حکومت کے اسپتالوں میں اقدامات کس کے حکم پر ہو رہے ہیں۔جس پر سیکریٹری صحت نے اعتراف کیا کہ یہ کام اور پیشرفت آپ کے حکم پر ہو رہی ہے۔ڈاکٹر نواز ملاح نے کہا کہ محکمہ صحت میں کرپشن بے نقاب کرنے کیلیے جے آئی ٹی بنائی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اس پر سوچتے ہیں۔دوران سماعت چیف ایگزیکٹو آغا خان اسپتال ڈاکٹر ہنس اور ڈاکٹربابر نقوی عدالت میں پیش ہوئے ۔چیف جسٹس نے کہا آپ کے آنے پر مشکور ہیں ۔آپ تحقیقات میں ہماری معاونت کریں۔تحقیقات کی جائیں کہ بچوں کی اموات کیسے ہوئیں۔بچوں کے والدین کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جائے۔ آپ کو کسی قسم کا ہم سے تعاون درکار ہو،ہم فراہم کریں گے۔آپ کو مکمل سیکیورٹی بھی فراہم کی جائے گی ۔اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ مٹھی اور نواب شاہ میں یہ اموات کیسے ہوئیں۔عدالت نے آغا خان اسپتال کے چیف ایگزیکٹو کو ایک ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔